Wednesday, 2 July 2014

ؑ ؑ ؑ ؑ عشق رسولﷺ اور انجمن طلبہ اسلام

میاں محمد اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

شیطان کو جب رب پاک نے لعنتی قرار دے دیا تھا اُسی وقت سے بُرائی اور سچ کے پیمانے وجود میں آگئے تھے۔رب کریم نے حق کی آواز بلند کرنے کے لیے اپنے خاص مقرب انبیاء اکرام کو دُنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا۔ ان انبیاء اکرام نے اپنے اپنے دائرہ کار میں حق سچ کا پرچم بلند کیے رکھا اور دین حق کی تکمیل نبی پاک سرتاج ِ ختم نبوت حضرت محمدﷺ پر آکر ہوئی۔عشقِ ر سولﷺ ہمیشہ سے مسلمانانِ عالم کے ایمان کا حصہ ہے۔ اس لیے شیطانی قوتوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو للکارا ہے۔ اس حوالے سے کوئی دو آرا نہیں ہیں کہ عشقِ رسولﷺ مسلمانوں کے لیے اپنی جان
مال، اولاد سب سے زیادہ عزیز ہے۔ ایک بات کہنے میں مجھے تامل نہیں کہ مسلمان گرو ہوں میں سے ہی کئی گروہ یہودونصارہ کے اس پروپگینڈے کا شکا ر ہو گئے معاذ اللہ نبی پاک ﷺ عام انسان ہیں اس سازش کی وجہ سے چند گروہ تو ایسے وجود میں آ گئے کہ جنہوں نے پیغمبر پاکﷺ کی شانِ اقدس کو محبت کی بجائے عام انسانی سوچ کے سے ا نداز میں لینا شروع کردیا ااور یوں توحید کے اقرار کو
اُو ڑھنابچھونا سمجھ لیا۔ اور آقا کریم ﷺ کی ذات بابرکات کو پس منظر میں لے جانے کہ صیہونی کوششوں کی انجانے میں مدد ہوتی چلی گئی۔ ان حالات میں برصغیرپاک و ہند میں بزرگانِ دین نے محبت رسولﷺ کے چراغ کی لو کو ٹمٹماتے رکھا اور عش نبیﷺ کو ایمان کی بنیاد قراردیا۔پاکستان بننے کے بعد بدقسمتی سے وہ مذہبی جماعتیں جو حضرتِ قائد اعظمؒ کو کافر کہتی تھیں اور پاکستان کی پ بھی بننے نہ دینے کے لیے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی تھیں وہی مذہبی جماعتیں پاکستا ن کی ٹھیکیدار بن کر پیٹرواسلام کی علمبردار بن گئیں۔ ان حالات میں تعلیمی اداروں میں خصوصی طور پر طلبہ کے اذہان کو توحید کے نام پر عشق رسولﷺ سے دور ہٹانے کی کوششیں یہ ہی نظریہ پاکستان کی اذلی دُشمن نام نہاد مذہبی جماعتیں کرنے لگیں۔ ان حا لات میں 1968 میں کراچی کے چند طلبہ نے عشقِ رسول ﷺ کے ماٹو کے ساتھ تعلیمی اداروں میں کام شروع کیا۔اور پوری قوم سے ایک ایسی فکر کی تجدید کروا ئی ۔جس کے بغیر مسلما نیت نجدیت میں ڈھل جاتی ہے اور وہ سوچ تھی عشقِ مصطفے کریمﷺ۔سیدی مرشدی یانبیﷺ یانبیﷺ۔غلام ہیں غلام ہیں رسولﷺ کے غلام ہیں۔ غلامیِ رسولﷺ میں موت بھی قبول ہے۔ تعلیمی اداروں میں تیزی سے مقبولیت کا سفر طے کرنے والی اس غیر سیاسی طلبہ تنظیم کا نام انجمن طلبہ ء اسلام ہے۔ اس تنظیم کے شاہین صفت نوجوانوں نے نتائج و عواقب کی پروا کیے بغیر اپنے سفر کو جاری رکھا اور طلبہ ء میں فروغ عشق رسولﷺ کے مشن میں پورے پاکستان میں طلبہء کو ایک ایسی سوچ سے پھر سے ہمکنار کیا جس کو بدعقیدگی کی لہر نے گہنا کر رکھ دیا تھا۔ انجمن طلبہء اسلام کے نوجوانوں پر پیٹرو اسلام کی حامل قوتوں نے فرقہ پرستی اور بدعتی ہونے کی چھاپ لگانے کی بھر پور کوششنں کی۔ میلاد کی محفلوں کو تعلیمی اداروں میں منعقد کروانے سے روکنے والی قوتیں جب عشقِ رسولﷺ کی قوت کا مقابلہ نہ کر سکیں تو وہی نام نہاد پیٹرو اسلام کی حامل جماعتیں بھی نہ صرف تعلیمی اداروں میں بلکہ عام لوگوں میں بھی نعت رسولﷺ کی محافل کروانے پر مجبور ہو گئیں۔ میرے رب پاک نے فرمایا تھا کی اے میرے محبوب ﷺہم نے آپﷺ کے نام کو بلند فرمادیا ہے۔ کون ہے جو میرے رب پاک کے آگے ٹھر سکے۔ انجمن طلبہء اسلام کے ایک کارکن کی حیثیت سے راقم کو بھی سماج کی بدلتی ہوئی سوچوں سے آگاہی رہتی رہی ہے۔ لیکن عشقِ رسولﷺ کا یہ اعجاز ہے کہ جو لوگ دُشمن جانِ تھے وہ غمگسار ہوئے۔سیدی مرشدییانبیﷺیانبیﷺ۔ یہودیوں کے ان امریکی ایجنٹووں کو کیا خبر کے اس قوم میں غازی علم دین شھید ؒ جسے لوگ موجود ہیں جن کی عشق نبی ﷺ میں موت نے انہیں حیات جاوداں کا جام پلا رکھا ہے۔ آخر میں انجمن طلبہ اسلام کا وہ عشق نبیﷺ سے مخمور نعرہ کہ غلامی رسول ﷺ میں موت بھی قبول ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔قانون و معاشیات کے اُستاد ہیں ، ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں برصغیر کی عظیم درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ اور انسانی حقوق کی عالم گیر تنظیم مصطفائی جسٹس لائرز فورم انٹرنیشنل کے سربراہ ہیں۔

No comments:

Post a Comment